Hello world!

Welcome to WordPress.com. This is your first post. Edit or delete it and start blogging!

Posted in Uncategorized | 1 Comment

New Blog

Today my blog achieved another milestone that is it has been viewed 0.1 million times. So I am moving to my new blog which is located at http://www.badtameez.com/blog so see you guys over there :)
Posted in واقعات | 7 Comments

نیا بلاگ

چونکہ میرے ایم ایس این سپیسز والے بلاگ پر ایک لاکھ وزٹ پورے ہو گئے ہیں لہذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس بلاگ کو ریٹائر کر دیں اور ورڈ پریس والے بلاگ کو خود بھی رونق بخشیں ویسے بھی کسی نے عقل دی ہے کہ جب ذاتی جگہ ہے تو مفت کی جگہ کیوں استعمال کرنی؟ لہذا جب تک movable type پر ایک بلاگ بنا نہیں لیتے اس وقت تک word press والے کو ہی استعمال کرو۔

نئے بلاگ کا ایڈریس http://www.badtameez.com/blog  ہے۔ جن حضرات نے اپنے بلاگ پر سے لنک کیا ہوا ہے وہ نئے بلاگ کو link کر کے پرانے والے کو delete کر دیں۔

 

Posted in اردو | Leave a comment

ہوش کے ناخن

دسمبر شروع ہوا چاہتا ہے۔ نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ پھر کوئی ایسی ویسی حرکت ہونے لگی ہے۔ غیر محسوس طریقے سے بہت کچھ ہو رہا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں مگر دماغ ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت ہے۔

عموماُ مسلمانوں میں سے قدامت پسند طبقے کو لتاڑا جاتا ہے کہ یہ بڑے بدمزاج ہیں اور جلد بدتمیزی اور  بد گوئی پر اتر آتے ہیں مگر red neck کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ ان کے سامنے ذرا آپ عیسائیت کے کسی معاملے میں کچھ کہہ کر دیکھیں اگر آپ کی اچھی خاصی طبعیت صاف نہ کر دیں تو پھر کہئے گا۔

امریکی عوام اتنی بری نہیں جتنی سمجھی جاتی ہے۔ ان لوگوں کو ہم لوگوں ہی نے ایسا بنایا ہے۔ کلچرل فرق اتنا اہم فیکٹر نہیں جتنا ہماری حرکات ہیں۔ پاکستان میں عام فیشن ہے کہ باہر جانے کے خواب دن میں بھی آتے رہتے ہیں ابو پر غصہ آیا یا ٹیچر سے مار پڑی یا صدر نے کچھ کیا اور آپ نے بیان داغ دیا کہ میرا بس چلے تو باہر چلا جاؤں میں عموماُ ایسے موقع پر کہتا ہوں کہ گھر سے یا کھال سے؟ امریکی ایسے نہیں یا یوں کہہ لیں کہ مغربی عوام ایسی نہیں یہ اپنے ملک پر جان دیتے ہیں حکومت کو چاہے دن رات کوسنے دیں مگر ملک سے پیار کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ بھی ہو کہیں نہ کہیں سے امریکہ گھسا لیتے ہیں اور کوئی جلوس نکالا تو اس میں امریکی پرچم جلانا لازمی ہے۔

میں نے ایک پیمانہ بنایا ہوا ہے کہ اگر ایک خبر لوکل نیوز پیپر میں نہیں آئی یا اس کی 10×12 کی تصویر نہیں چھپی تو معاملہ ابھی دبا نہیں۔ اگست میں جو کچھ ہوا اور پوپ کے بیان کے بعد جو ہوا اس کا اختتام ابھی نہیں ہوا۔ امریکی انتخابات کے ختم ہونے کا انتظار ہو رہا تھا۔ اب پوپ سے کام دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔

امریکہ میں ایک شخص نے امریکی پرچم جلایا اس کو پولیس پکڑ کر لے گئی مگر عدالت نے اس کو بری کر دیا مگر اس کے محلے داروں نے اس سے لاتعلقی اختیار کر لی اور مجبوراُ اس کو وہ جگہ چھوڑ کر جانا پڑا۔ اب پاکستان میں جلسہ ہوا امریکی پرچم جلایا جا رہا ہے اور اس پر آگے ہو ہو کر تصویر کھینچوائی جا رہی ہے۔ ایسی تصویر جب یہاں چھپتی ہے تو ایک پاکستانی کے بارے میں کیا تاثر بنتا ہے وہ مجھے پتہ ہے کہ جیسے ہی کسی کو میں بتاتا ہوں کہ میں کہاں سے ہوں وہ پہلے تو فوراُ چونک جاتا ہے اور دوسرا سوال ہوتا ہے کہ تم نے انگلش کہاں سے سیکھی؟ اور پھر ویلکم ٹو امریکہ کہتے ہیں۔

پہلے پوپ نے بیان دیا جو کہ انتہائی متنازعہ تھا ان کا جو بھی مطلب تھا انہوں نے ایک فریق کی بات کی مگر اس کو جو جواب ملا اس کا ذکر کرنے سے کترا گئے۔ نتیجتاُ مسلمانوں کے اس طبقے نے جو دماغ کی بجائے جذبات سے سوچتا ہے نے پوپ کے خلاف اچھا خاصا احتجاج کیا۔ پھر فرانس نے ترکی کے خلاف قانون پاس کر کے ترکی کو آگ لگا دی۔ اب امریکی انتخابات ختم ہیں اور پوپ ترکی کے دورے پر ہیں ان کے خلاف جو مظاہرے ہو رہے ہیں وہ ان کے بیان سے زیادہ فرانس کی حرکت کے خلاف ہیں مگر چونکہ عیسائی دنیا کسی اور ہی کی عینک سے چیزیں دیکھنے کی عادی ہے تو ان کی طرف سے جلد ہی کسی شرانگیزی کی امید ہے۔

پاکستان میں مولویوں کا آلہ کار بننے کی بجائے عقل سے کام لیں ہماری حکومت میں شامل خواتین و حضرات کا تعلق مرد اور عورت کی بجائے کسی تیسری جنس سے ہے۔ اس ڈرامے کا مقصد صرف اپنے اپنے اقدار کو طول دینا ہوتا ہے۔ میں اجتجاج کے حق میں ہوں مگر یہ لوگ عام مسلمانوں کو استعمال کرتے ہیں۔

مجھے یہودی پسند ہیں آپ ان کے کسی مقدس انسان کی بے حرمتی کر کے دیکھیں اگر آپ زندہ بچ گئے تو بڑی بات ہوگی۔ جینا حرام ہو جاتا ہے۔ میل گبسن کا حال دیکھ لیں ابھی تک اس کی جان عذاب بنی ہوئی ہے۔ دوسرے یہ لوگ انتقام لیتے ہیں نہ کہ توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ دوسرے کو معافی مانگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ مسلمانوں کا ابتدائی زمانہ دیکھ لیں وہ لوگ بجائے جلسے کرنے کے انتقام لے لیا کرتے تھے اسی سے سب لوگ خوفزدہ رہتے تھے کہ اگر کچھ کیا تو ہماری باری آ جانی ہے۔ اب بجائے اپوزیشن کا آلہ کار بننے کے ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے ان سے انتقام لیں مگر وہ لینا مشکل ہے کہ اس سب کی عادت ہوئی ہوئی ہے۔ مگر جلوس نکال کر نعرے لگا کر پتہ نہیں کونسا ثواب کمایا جاتا ہے۔

Posted in اردو | Leave a comment

صدر کو کیا ہوا؟

امریکہ اچھی جگہ ہے۔ مزے کی ہے مگر کچھ باتیں اس کی نرالی ہیں ایسی کہ حیرانگی ہوتی ہے۔ ویسے میرے ذہن میں اکثر یہ خیال آتا ہے کہ اگر امریکہ سے سب کو نکال دیا جائے اور سارے پاکستانی یہاں آباد ہو جائیں تو اس ایک ملک کے کتنے ملک بنا دیں گے ہم لوگ۔ اتنی ریاستوں کو متحد رکھنا بہت بڑا کام ہے۔

صدر امریکہ کا ہو یا پاکستان کا عام عوام ان کو بے وقوف اور اجڈ ہی مانتی ہے۔ یہ بے چارے جو مرضی کر لیں لوگ ان کے اور ان کی پالیسیوں کے خلاف ہی رہتے ہیں۔ ویسے شائد صدر بن کر دماغ پر اثر پڑتا ہے۔ ایک اسٹیج ڈرامے میں صدر کی کافی شامت آئی تھی۔

امریکی ریاست کولوراڈو کے homeowners association کے صدر جناب bob kearns کو نہ جانے کیا سوجھی کہ ایک خاتون کو گھر سے seasonal symbol اتارنے کا حکم دے ڈالا۔ یہ سمبل دراصل سبز رنگ کا ایک گولا ہے جس کے نچلے کنارے پر سرخ ربن لگا ہوا ہے جو کہ امن کا نشان ہے جبکہ یہ چیز آجکل میرے سارے علاقے میں تقریباُ ہر چوتھے گھر پر لگا ہوا ہے۔

خاتون کے انکار پر ایسوسی ایشن کے صدر نے architectural committee کے پانچ ارکان کو حکم دیا کہ خاتون کے گھر سے یہ نشان زبردستی اتروایا جائے۔ پانچوں ارکان نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا کہ ان کے خیال میں یہ ایک seasonal symbol ہے جو کرسمس گزرنے کے بعد اتر جائے گا۔

صدر کا کہنا تھا کہ یہ اینٹی عراق وار نشان ہے اور ان کے بیان کے مطابق کچھ دوسرے لوگوں نے انکو بتایا ہے کہ یہ دراصل شیطان کا نشان ہے۔ صدر اور کچھ نہ کر سکے تو انہوں نے پانچوں ارکان کو نوکری سے برطرف کر دیا جو کہ میرے خیال میں آزادی اظہار کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ دوسری طرف انہوں نے خاتون کو روزانہ 25 ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

خاتون کے بیان کے مطابق ان کے وہم و گمان میں بھی عراق وار نہیں تھی جب وہ اس کو اپنے گھر کے باہر آویزاں کر رہی تھیں۔ لیکن اب وہ اس قسم کی بدمعاشی برداشت نہیں کر سکتیں لہذا وہ اس کو کرسمس سے پہلے نہیں اتاریں گیں۔

اس طرح کی مطلق العنانی ہمارے ملک میں ہی نہیں امریکہ جیسے ملک تک میں ہوتی ہے لہذا کڑھنے کی ضرورت نہیں صدر بن کر انسان کو کچھ ہو جاتا ہے اور وہ میں تب تک بتا نہیں سکتا جب تک میں خود صدر نہ بن جاؤں۔

Posted in اردو | Leave a comment

شیعہ یا سنی؟

جیسا کہ ہر بچے پر ظلم کی ابتدا اسکول سے شروع ہوتی ہے لہذا اسی طرح جب ہم اڑوس پڑوس میں شیطانیاں دیکھانے لگے تو فیصلہ ہوا کہ بچے کو اسکول میں "جمع" کروا دیا جائے۔ اسکول میں داخلے کے مراحل بڑے مزے کے تھے۔ نئی کتابیں نئی جگہ اور ڈھیر سارے بچے۔ خوشی اس لئے بھی تھی کہ میں لڑکیوں والے کھیل کھیل کر تنگ آ چکا تھا۔ میرے محلے میں یا تو مجھ سے بہت بڑے لڑکے تھے یا بالکل کاکے منے ہاں ہم عمر لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ لہذا گڑیا سے لے کر گھر داری کے سبھی کھیل کھیل کر دماغ کا ستیاناس ہو چکا تھا اور ابھی تک ہے۔

اب چونکہ گھر کے آس پاس کئی اسکول تھے لہذا سوچ بچار ہونے لگی کہ بچے کا مزید ستیاناس کس سکول سے کروایا جائے سب کی رائے تھی کہ انگلش میڈیم میں بھیجا جائے کہ یہ بلا اس زمانے  میں بالکل نئی نئی وارد ہوئی تھی مگر چونکہ ہم ضرورت سے زیادہ غریب تھے لہذا ہمیں گورنمنٹ مسلم ماڈل جونئیر اسکول میں داخل کروا دیا گیا۔ چوبرجی بس اسٹاپ پر منار پاکستان جاتے ہوئے اتریں تو بس کی پچھلی طرف جو بڑی سڑک ہے وہ شام نگر جاتی ہے اور آگے سے جو پتلی سی سڑک اندر کی طرف جاتی ہے وہ سیدھے میرے اسکول کی طرف جاتی ہے۔

جب پیپر دینے گیا تو سب بچوں پر پہلا ظلم یہ ہوا کہ ان کو ان کی ماؤں سے جدا کر کے کمروں میں لے جایا گیا اور جس طرح بٹھایا جاتا ہے اس طرح فاصلے پر بٹھا دیا گیا۔ اب میرے ساتھ والے بچے کی ماں دروازے پر کھڑی تھی اور وہ بچہ کہہ رہا تھا ماما یہاں میرے ساتھ بیٹھو اور وہ کہتیں کہ نہیں بیٹے میں ٹھیک ہوں اتنے میں مس نے کہا کہ آپ یہاں نہیں کھڑی ہو سکتی آپ باہر جائیں۔ اب وہ گئیں تو اس بچے نے ایسے سر سنائے کہ کیا بتاؤں ایسی درد بھری آواز تھی کہ دو لڑکیوں نے بھی رونا شروع کر دیا۔ خیر moral of the story یہ تھا کہ میں ربڑ لے جانا بھول گیا تھا وہ دن اور آج کا جب بھی کبھی کسی امتحان کے لئے جاتا ہوں کوئی نہ کوئی چیز بھول جاتا ہوں۔

جس سال میں نے داخلہ لیا اس سال سبھی نکمے بچوں نے میرے اسکول میں داخلہ لیا جس کی وجہ سے میری پہلی پوزیشن آ گئی اس پہلی پوزیشن نے بعد میں جو مسئلے میرے لئے کھڑے کئے وہ میں ہی جانتا ہوں۔ خیر اسکول جانے کا پہلا دن آیا۔ پہلے دن بچوں پر ظلم مقصود نہیں تھا لہذا ایک مس آئیں سب بچوں سے سوال جواب کئے اور چلی گئیں اب سب بچے میرے گرد اکٹھے اور ایک نے پوچھا تم شیعہ ہو یا سنی؟ اب یہ ایم اے میں پوچھے جانے والا سوال مجھ سے اس عمر میں کر دیا گیا میرے تو فرشتوں کو بھی پتہ نہیں تھا کہ شیعہ یا سنی کیا ہوتے ہیں؟ خیر میں نے کہا میں مسلمان ہوں سب بچے ایسے ہنسے جیسے میں نے لطیفہ سنایا ہو۔ پھر ایک نے کہا بتاؤ تم کون ہو میں نے کہا میں مسلمان ہوں ایک نے کہا یہ اول آیا ہے اور اس کو اتنا نہیں پتہ نہ جانے کیسے اول آ گیا ہے سچ بتا اوئے تم نے چیٹنگ کی تھی نا؟

میں پریشان کہ یہ کیا سارے بچے میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ اب ایک لڑکا جو بھٹی تھا نے کہا اچھا تمہاری ذات کیا ہے؟ میں نے اس کو ایسے دیکھا کہ اس کے سر پر سینگ نکل آئے ہوں اس نے بھی جواب میں ایسی ہی نظریں عنایت کی۔ میں چپ رہا تو پھر پوچھا میں نے کہا میں مسلمان ہو اور پاکستانی ہوں اس پر پھر سب نے ہنسنا شروع کر دیا خیر میری پریشانی دیکھ کر ایک لڑکے کو ترس آیا وہ بٹ تھا اور اس کی آواز پاٹ دار تھی اس نے سب کو منع کیا کہ بس اب بس کرو۔ مس کے آنے پر جب مس نے پوچھا کہ اول کون آیا تھا تو میرا تعارف کچھ یوں کروایا گیا کہ یہ آیا ہے اور مس اس کو نہیں پتہ کہ یہ کون ہے۔ مس نے پوری بات سن کی ان کو ڈانٹا کہ ایسی باتیں نہیں کرتے،

گھر آ کر امی سے پوچھا کہ امی میں کون ہوں تو یہی جواب کہ بیٹا تم مسلمان ہو۔ میں نے کہا نہیں میں شیعہ ہوں یا سنی؟ امی نے کہا کہ مسلمان یہ سوال میں نے 100 دفعہ کیا اور ہر دفعہ یہی سننے کو ملا کہ میں مسلمان ہوں۔ ذات کا پوچھا تو یہی جواب ملا ذات وغیرہ کچھ نہیں ہوتی تم نے صیح کہا تھا تم پاکستانی ہو۔ خیر اب امی کو کون سمجھاتا کہ بچے جان کے پیچھے کیسے پڑتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد جب بچوں کو یقین ہو گیا کہ یہ اتنا ذہین نہیں جتنا بنا دیا گیا تھا تو انہوں نے مجھ سے ایسے اوٹ پٹانگ سوال کرنے اور اپنی "مذہبی ڈسکشن" میں میری شمولیت بند کر دی۔

پانچویں کلاس میں ہماری کلاس ٹیچر کی سختی عروج پر تھی اور میری نالائقی بھی۔ حساب سے جان جاتی تھی اور ستمبر ٹیسٹ میں 27 نمبر لے کر فیل ہو چکا تھا۔ ایسے میں ایک دن ہماری ٹیچر چھٹی پر تھیں۔ میں نے دوسرے لڑکے سے پوچھا کہ آج مس کیوں نہیں آئیں؟ اس نے کہا آج کونڈے کھانے ہیں تو وہ اپنے گھر پر اس کا اہتمام کر رہی ہونگی۔ میں نے کہا یہ کونڈے کیا ہوتے ہیں؟ اس نے کہا تمکو نہیں پتہ؟ میں نے کہا نہیں؟ اس نے کہا تمہارے خاندان میں کبھی نہیں ہوا یہ؟ میں نے کہا نہیں اس لئی تو پوچھ رہا ہوں یہ کیا ہوتا ہے؟ اس نے شور مچا دیا کہ پتہ چل گیا یہ سنی ہے اب سب میرے گرد جمع۔ اور لگ گئے اپنی تسلی کرنے کہ بچہ سنی ہے کہ نہیں۔

اس سارے عرصے میں ابو سے جب بھی پوچھا انہوں نے یہی کہا کہ بیٹا اپنی امی سے پوچھو۔ اور امی کا جواب تو آپکو پتہ ہے۔ جب ہم دادی کے گھر آئے تو چھوٹے چچا سے پتہ چلا کہ ہم خیر سے جٹ ہیں۔ اس لئے بدتمیزی اور بے وقوفی ہمارا بنیادی جزو ہے۔

آج عراق صرف سنی شیعہ مسئلے کی وجہ سے مذبح خانہ بنا ہوا ہے۔ ہم لوگوں نے اپنی نسلوں کو اتنا پوائزن کر دیا ہوا ہے کہ پہلی کلاس کا بچہ عمر فقط 5 سال اور سنی شیعہ کا فرق ان کو پتہ ہے۔ ایک دوسرے کا کافر یا کنجر کہنا عام سی بات ہے۔ اتنی sensible باتیں کرنے والے حضرات بھی اس مسئلے پر اسی گفتگو کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان کا سارا امیج خراب ہو جاتا ہے۔ بچوں کو اردو انگلش کی زبانوں کے بوجھ سے بچانے کی بات کی جاتی ہے مگر یہ یہ آلودہ علم ان کے ذہنوں میں ٹھونسا جاتا ہے اس سے نظریں چرائی جاتیں ہیں۔

عراق میں پرسوں 24 سنیوں کو زندہ جلایا گیا اور آج 20 شیعوں کو بدلے میں قتل کیا گیا ہے۔ ایک نبی ایک اللہ اور ایک قران کے ماننے والے ایک دوسرے کو اسی اللہ اور اسی نبی کے نام پر قتل کر رہے ہیں۔ یہ وہی پیشنگوئی ہے کہ مرنے والا اور مارنے والا دونوں جہنمی ہونگے اور دونوں کو پتہ نہیں ہوگا کہ قتل کیوں کیا گیا؟

 

Posted in اردو | 1 Comment

Thanks Giving

Thanks giving امریکی تہوار ہے۔ یہ امریکہ میں ہر سال نومبر کی چوتھی جمعرات کو منایا جاتا ہے۔ کینیڈا میں یہ اکتوبر کی دوسری پیر کو منایا جاتا ہے۔ یورپ کا پتہ نہیں وہ کب مناتے ہیں۔

اس کے بارے میں دو روائیتیں ملیں ایک تو یہ کہ چونکہ فصل پک چکی ہوتی ہے تو اس کے لئے خدا کا شکریہ ادا کرنے کے لئے یہ تہوار منایا جانے لگا۔ دوسری یہ تھی کہ جب امریکہ میں انگریز وارد ہوئے تو انہوں نے فصل پک چکنے پر ریڈ انڈین کی دعوت کی کہ انہوں نے ہی ان کو یہاں یہ کام کرنا سکھایا تھا۔ دوسری کہاوت یا روایت میرے دل کو نہیں لگی کہ کیا انگریزوں کو پہلے کھیتی باڑی نہیں آتی تھی؟ کیا پتہ تعاون کی وجہ سے انگریزوں نے ریڈ انڈین کو مدعو کیا ہو۔ خیر جو بھی ہو اس تہوار کا مقصد شکریہ ادا کرنا تھا چاہے ریڈ انڈین کا ہو یا خدا کا۔

اس دن امریکہ میں سکولوں کالجوں میں چھٹی ہوتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو مدعو کرتے ہیں۔ اکھٹے مل کر ڈنر کرتے ہیں اور اس کے بعد ٹی وی کے گرد اکھٹے ہو کر فٹ بال دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ یہاں فٹ بال سے مراد امریکہ فٹ بال ہے نہ کہ یورپ والا۔

ریڈ انڈینز کو یہ تہوار بالکل نہیں پسند ان کا خیال ہے کہ سال بھر زیادتی کر کے ایک دن شکریہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے؟ خیر ریڈ انڈین سے قطع نظر امریکہ میں اس دن "خاندان" دیکھنے کو ملتا ہے۔ لوگ اس دن سب سے زیادہ اہمیت صرف اور صرف اکھٹے ہونے کو دیتے ہیں۔

اگر کسی کا کام ایسا ہے کہ وہ ڈنر کے وقت بھی کام پر ہوتا ہے تو اس دن عام طور پر مالک ملازموں کو ڈنر پر گھر جانے کی اجازت دے دیتے ہیں سب اسٹور بند ہو جاتے ہیں اور اس وقت امریکہ میں صیح معنوں میں پاکستان کی ہڑتال کا سا سماں ہوتا ہے۔ ہاں دیسی مالکوں کے سٹور کھلے ہوتے ہیں جیسے میرے گھر کے پاس ایک Shell کا پیٹرول پمپ تھا اس کا مالک ہندو ہے لہذا وہ کھلا تھا مگر Velco کا پمپ بند تھا۔ ہاں 7eleven کھلے رہتے ہیں۔

Thanks giving والے دن تمام لوگ صرف اور صرف اخبار ڈھونڈنے میں وقت صرف کرتے ہیں وجہ؟ اخبارات میں کوپن اور سیونگ آفر کے اتنے فلائر ہوتے ہیں کہ ایک ایک اخبار ایک کلو کا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس کے اگلے دن کو biggest day of shopping کہا جاتا ہے لہذا لوگ سیل کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بڑے بڑے اسٹور انتہائی کم قیمت پر چیزیں فروخت کرتے ہیں۔ ایک جیکٹ 99 ڈالر کی تھی وہ macy’s پر 29 ڈالر کی لگی ہوئی ہے اسی سے اندازہ لگائیے کہ یہاں سیل کا کیا مطلب ہوگا؟

اب امریکہ میں کرسمس کا سیزن شروع ہوا ہے اور سب لوگ کرسمس کی خریداری کر رہے ہیں۔ ہر اسٹور پر کرسمس ڈیکوریشن کر دی گئی ہے۔ مجھے شروع سے ہی کرسمس بہت attract کرتی تھی اور ہر سال کرسمس کی موویز دیکھنا میرا من پسند مشغلہ تھا چلیں اس دفعہ Live دیکھنے کو ملے گی۔

 

Posted in اردو | Leave a comment