لان ورک

آج مجھے بے حد غصہ چڑھا ہوا ہے۔ وجہ؟ بس قسمت ہی خراب ہے۔ چھوٹے ہوتے ہوم ورک ملا کرتا تھا امریکہ آ کر لان ورک ملنا شروع ہو گیا۔ ہوم ورک ہمیں حد سے زیادہ مشکل لگا کرتا تھا یہ لان ورک تو اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔

 مجھے greenery کا جتنا شوق ہے میرے ابا جان کو یہ اتنی ہی زہر لگتی ہے۔ یہاں ہمارے گھر کے آگے اور پیچھے جو وسیع اور عریض لان ہے یہ ہفتہ دس دن ہی اچھا لگتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد اس کی گھاس کاٹنا پڑتی ہے۔ ہم جب نئے نئے آئے تو آتے ہی دوسرے دن یہ کام کرنا پڑا۔ اتنی محنت نہیں لگتی جتنی اس کی رکشے جیسی پھٹ پھٹ سننی پڑتی ہے۔

خیر ابھی ہمیں گھاس کاٹے دس دن ہوئے تھے کہ گھاس پھر ویسی کی ویسی۔ وجہ اس کی کہ یہاں ہر تیسرے یا چوتھے دن بارش ہونے کا جو رواج ہے اس کی وجہ سے گھاس گرمیوں میں بہت جلدی جلدی بڑی ہوتی ہے۔ خیر ہر پندرہ دن بعد گھاس کاٹ کاٹ کر دماغ سے greenery کے سارے بھوت نکل بھاگے۔

ایک دن ہم گھر پر دیر تک تھے عموماُ ہم گیارہ بجے جاتے تھے اس دن پانچ بجے گئے اور اسی دن کرم ہو گیا۔ ایک صاحب نے دروازے پر دستک دی اپنا کمپیوٹر سے پرنٹ کیا گیا پرچہ ہاتھ میں تھمایا کہا کہ اگر آپ نے لان ورک کروانا ہو تو ضرور یاد کیجئے گا۔ ہمیں تھوڑی سی شرم آئی کہ گھاس اتنی بڑی ہو گئی ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ کیسے لاپرواہ لوگ ہیں اور زیادہ خوشی ہوئی کہ اس کام سے جان چھوٹے گی۔ فٹ پوچھا کتنے پیسے لو گے۔ کہتا 40 ڈالر ہم نے کہا نہ بھائی بہت زیادہ ہیں فوراُ 25 پر آ گیا اس سے قبل کے ہم ڈھیٹوں کی طرح کہتے نہ بھائی ابھی بھی زیادہ ہیں ابو نے کہ دیا ٹھیک ہے کردو، بس وہ دن اور ابھی ایک ماہ قبل تک وہ صاحب جب بھی گھاس بڑی ہوتی نازل ہوتے اور کام کر کے چلتے بنتے۔

مسئلہ تب دوبارہ پیدا ہوا جب سردی شروع ہوئی اور گھاس بڑھنی بند ہوئی مگر نئی افتاد آن پڑی۔ یہ تھی درختوں کے پتے۔ ورجینیا درختوں سے نہیں جنگل سے بھرا پڑا ہے۔ ہر طرف درخت ہی درخت۔ سڑک کے کنارے۔ ہائی وے کے دونوں طرف۔ گھروں کے ارد گرد کوئی جگہ نہیں ان کے بغیر۔

خیر ہمارے گھر کے ارد گرد کم و پیش 20 درخت ہیں اور ان کے پتوں نے آگے پیچھے کے لان میں جو سماں باندھا ہوا تھا وہ ہمیں ہی پتہ ہے کہ ہم ہی کو ان کو اکٹھا کر کے ٹھکانے لگانا پڑا ہے۔ ہم تو ڈھیٹوں کی طرح انتطار کر رہے تھے کہ کوئی آئے گا اور پیسے لے کر پتوں سے بھی دو دو ہاتھ کر لے گا مگر  بری قسمت سٹی کونسل کی طرف سے خط آ گیا کہ فلاں فلاں دن پتے اٹھائیں جائیں گے لہذا اپنے لان کے سارے پتے سڑک کنارے ڈھیر لگا دیں۔

خط کا آنا تھا کہ سب ہمارے پیچھے پڑ گئے کہ چونکہ تم کو ہی شوق ہے دوسرے تم ہی نکمے جہاں کے ہو لہذا کوئی کام کرو۔ اس جیسا کام جس نے کیا ہو وہی میرے دکھ کو سمجھ سکتا ہے۔ خیر 3 دن لگا کر پتے اکھٹے کئے اور آج ہمارے next door neighbor کے لان کا صفایا کرنے کے لئے لوگ آئے تھے۔ سارا لان صاف کر کے گئے۔ سو غصہ ہمارا بجا ہے کہ پہلے کیوں نہیں آئے جب ہم نے کر لیا ہے تبھی کیوں آئے؟

Posted in اردو | Leave a comment

عقلمند اور قانون

امریکہ تارکین وطن کا ملک ہے۔ یہاں ہر قوم اور ملک کے لوگ رہتے ہیں  North eastکی طرف tolerance زیادہ ہے مگر جیسے جیسے south  یا west کی طرف جائیں لوگوں کی بہت بڑی تعداد red neck ہے۔

امریکی ریاست Nevada کی ایک county  کی council نے 2 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت سے ایک قانون منظور کیا ہے جس کی رو سے اگر آپ county کی حدود میں امریکی جھنڈے سے زیادہ اونچائی پر اپنے ملک کا جھنڈا لہراتے ہیں تو یہ ایک جرم ہو گا اور اس پر جیل اور جرمانے کی سزا ہے۔

اس قانون کی وجہ یہ ہے کہ اس سال مئی میں Mexican  لوگوں نے امریکہ کو بتانے کے لئے کہ وہ امریکہ میں محنت کرتے ہیں اور یہاں کے ہر وہ کام کرتے ہیں جو امریکی نہیں کرنا چاہتے لیکن پھر بھی ان کو immigration نہیں دی جا رہی ہڑتال کی کال دی۔ یہ ہر لحاظ سے کامیاب ترین ہڑتال تھی۔ سب کاروبار بند تھے بچے سکولوں کو نہیں گئے۔ تمام میکسیکن سٹور اور ادارے بند رہے اور لوگوں نے immigration کے لئے جلوس نکالا۔

میں immigration کے مسئلے پر میکسیکن کے ساتھ نہیں ہوں کہ بہرحال ان کو system کو follow کرنا چاہئے مگر جلوس نکالنا اور پر امن طور پر اپنی اہمیت جتانا ان کا حق تھا اور اس کو انہوں نے استعمال کیا اگر red neck لوگوں کو اس سے اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے تو اس طرح کے قوانین بنا کر اپنی بھڑاس نکالتے ہیں۔

کونسل کی ایک رکن نے کہا کہ یہ قانون ان لوگوں کے لئے ویسا ہی تکلیف دہ ہے جیسا کہ ہمارے لئے ان کی ہڑتال تھی۔ اور جتنا ان کو پسند ہے کہ وہ اپنا جھنڈا لہرائیں ویسے ہی ہم چاہتے ہیں کہ امریکی پرچم سب سے اوپر ہو۔

 ایک رہائشی نے کہا کہ اگرچہ بھاری اکثریت کے بجائے صرف 60 فیصد نے اس کی حمایت کی مگر چونکہ یہ ایک منظور شدہ ادارے کی جانب سے منظور شدہ قانون ہے لہذا اس کا احترام ہم پر لازم ہے اگرچہ یہ قانون تعصب پر مبنی ہے مگر ہم اس طرح کے اقدامات سے مشتعل نہیں ہونگے۔

قانون اچھے ہو یا برے خود کو عقل مند سمجھنا حماقت ہے۔ ضروری نہیں جس طرح آپ سوچ رہے ہیں ویسا ہی ہو۔ اور ضروری نہیں کہ ایک چیز آپ کے لئے خطرناک ہے تو دوسرے کے لئے بھی ہو۔

Posted in اردو | 7 Comments

ہیلری کلنٹن

صدر کلنٹن کے سامنے ایک منصوبہ پیش کیا گیا تھا جس کی رو سے ان کو افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانی تھی۔ مگر انہوں نے اس طاقت کی نہیں مانی جس نے ان کو آرکنساس سے اٹھا کر white house پہنچایا تھا۔ نتیجتہُ ان کو مونیکا لیونسکی کے اسکینڈل میں پھنسا کر ذلیل و خوار کیا گیا۔ کیا آپکو یاد ہے جس وکیل نے صدر کلنٹن کے خلاف خود زور و شور سے مقدمہ لڑا تھا وہ کس مذہب کا پیروکار تھا؟

صدر بش نے 11 ستمبر سے دو سال پہلے ہی 1999 میں انتخابی مہم کے دوران ہی دہشت گردی سے بچاؤ اور امریکہ کو ایک محفوظ جگہ بنانے کا عزم دہرانا شروع کر دیا ہوا تھا۔ صدر بش اپنے کالج کے زمانے میں ایک D کلاس طالب علم تھے۔ ویت نام کی جنگ کے دوران یہ جبری بھرتی سے بچنے کے لئے نیشنل گارڈ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ اور اس کی توجیح وہ آج تک نہیں پیش کر سکے۔

افغانستان اور عراق پر حملے کے لئے صدر بش کے ارد گرد کچھ ایسے لوگ تھے جو اس وقت بہت پرجوش تھے مگر 6 سال کے عرصے میں انہوں نے یا تو تبادلے کرا لئے یا مستعفیٰ ہو گئے یہ سب کے سب بھی وکیل صاحب کی نسل کے تھے۔ اب اس وقت صدر بش کولن پاؤل اور رمز فیلڈ دنیا کی لعن طعن کے لئے اکیلے رہ گئے ہیں۔ واقعی D  کلاس دماغ کبھی خود سے نہیں سوچ سکتا۔

صدر بش کے خلاف بولنے والوں کی تو کوئی کمی نہیں۔ کولن پاؤل تو ویسے ہی سب کی سن رہے ہیں۔ رمز فیلڈ پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا مقدمہ دائر کیا جا چکا ہے۔  

جنرل ابی زید سینٹ اور کانگریس کی کمیٹیوں کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے عراق سے فوجیں نکالنے کی سخت مخالفت کی ان کے مطابق نہ تو وہ ری پبلیکن کے اس موقف کی کہ مزید فوج بھیجی جائے حامی ہیں نہ وہ ڈیمو کریٹ کے مطالبے کے مطابق فوج کی واپسی کے حق میں ہیں۔

جان مکینن نے عراق سے فوج کی واپسی کے لئے 4 سے 6 ماہ کا اعلان کیا ہے۔ ایک اور سینیٹر بدقسمتی سے انکا نام نہیں یاد لیکن ڈیمو کریٹ کی طرف سے آئندہ صدر کے لئے ان کا نام بھی لیا جا رہا ہے نے بھی عراق سے فوج کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سب سے اہم ہیلری کلنٹن جنکا نام صدارت کے لئے 2000 سے لیا جا رہا ہے نے جنرل ابی زید کی hearing کے دوران کہا کہ وہ عراق کی تقسیم چاہتی ہیں اور اس کو تین حصوں میں تقسیم کر دینا چاہتی ہیں۔ کیا صدر کلنٹن کی غلطی معاف کر کے ہیلری کلنٹن کو صدر بنایا جا سکتا ہے اس کا پتہ تو 2008 سے پہلے ہی پتہ چل جائے گا خیر ہمارے لئے دونوں پارٹیاں ایک جیسی ہیں۔

Posted in اردو | 1 Comment

ہائے رے مسلمان

ہم مسلمان دنیا کی عجیب ترین قوم ہیں۔ ہمارے عقائد ہائی جیکڈ ہیں۔ ہم سب انڈوں میں سوئی ہوئی مخلوق ہیں۔ دنیا نے ناقابل یقین ترقی کر لی ہے مگر ہمارے خراٹے بند ہونے میں نہیں آ رہے۔ ہم ابھی تک انتہائی بنیادی باتوں سے نکل نہیں سکے۔ اور ہم سب ماضی میں زندہ رہنے والی قوم ہیں۔ ہم ابھی تک اس زمانے کو یاد کرتے ہیں جب مسلمان ورلڈ پاور تھے۔

جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو ایک رسالے میں کارٹون دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں تین قبریں تھیں ایک پر ussr لکھا تھا دوسرے پر uk اور یہ دونوں بند تھیں تیسری قبر کھدی ہوئی تھی اور اس پر usa لکھا ہوا تھا۔  یعنی بتایا جا رہا تھا کہ یہ بڑی طاقتوں کا قبرستان ہے۔ اس پر میرے سب کلاس فیلوز نے بڑی واہ واہ کی کہ امریکہ کا افغانستان میں سیتا ناس ہو جانا ہے اور تباہ ہو جائے گا۔

دنیا میں صرف مسلمان ہی ہیں جو اپنے ماضی سے سبق حاصل نہیں کرتے باقی ہر ملک اور ہر قوم اپنے ماضی سے سبق حاصل کرتی ہے اور پھر دوبارہ غلطی دہراتی نہیں۔ ویسے بھی پہلی بار غلطی غلطی ہوتی ہے دوسری دفعہ گناہ بن جاتی ہے۔ جس وقت uk نے افغانستان پر حملہ کیا دونوں طرف اسلحہ اور ٹیکنالوجی کم و بیش ایک جسی تھی۔ جب ussr نے مہم جوئی کی تب اسلحہ اور ٹیکنالوجی ترقی یافتہ تھی مگر امریکی امداد نے مجاہدین کو فتح دلوا دی۔ اب جب امریکہ نے حملہ کیا تو کہاں سے مدد ملتی؟ اور ٹیکنالوجی اور اسلحہ نے کیسی ہوشربا ترقی کی یہ عام پبلک کو تو پتہ ہی نہیں۔ ہم لوگ زمین پر تلواریں لہراتے رہ جاتے ہیں اور  اوپر سے سٹیلتھ طیارے بم برسا کر "فرار" ہو جاتے ہیں۔ اور وہ مرد بھی نہیں کہ رک کر مقابلہ کریں۔ ہیں نا؟

ہمارے ذہن میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ خود سے کچھ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی۔ vision کیسے change ہوتا ہے اس کی مثال ایسے ہے کہ ٹرین میں بیٹھے تو ایسے لگتے ہے کہ ارد گرد کی دنیا پیچھے کو بھاگ رہی ہے لیکن اگر کسی طرح آپ ٹرین سے باہر نکل جائیں تو فورا منظر تبدیل ہو جاتا ہے پتہ چلتا ہے کہ نہیں دراصل ٹرین چل رہی ہے۔

اور اوپر سے ہم سب جلد باز ہیں۔ فوراُ تجربے کرنے چل پڑتے ہیں۔ ذرا سوچنے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ دوسری یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ جیسا فیصلہ ہم کر سکتے ہیں ویسا کوئی نہیں کر سکتا اور اگر کسی کو اختلاف ہو ہمارے فیصلے سے تو دل کو یہ کہہ کر تسلی دی جاتی ہے کہ ارے یہ تو نادان ہیں۔ ان کو کیا پتہ ہماری دور اندیشی اور معاملہ فہمی کا۔

اسلام کو defend کرنا یا اسلام کو الزام دینا ہمارا قومی اور مذہبی فریضہ ہے۔ اگر اسلام کے کسی حکم پر اعتراض ہو تو بجائے اس کے جواب کو تلاش کیا جائے اس پر اپنا علم جھاڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں اسلام کی شیدائی ایسی زبان کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ فرش سے عرش تک کیا بندے کیا فرشتے سب حیران ہو کر پریشان بھی ہو جاتے ہے کہ یہ اسلام کی کیسی خدمت ہو رہی ہے؟ اور اس کے نتیجے میں جنکا دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا وہ بھی ایسی زبان استعمال کرتے ہیں کہ تم اس قابل نہیں کہ تم سے اچھی طرح بات کروں۔ زبان جیسی بھی استعمال کرو گے لوگوں کو بات کرنے والے کا پتا چلے گا نہ کہ وہ جس کو برا بھلا کہہ رہا ہے اس کا۔

اسلام کی بدقسمتی کہ اس کو interpret کرنے والے سارے کے سارے یا تو جاہل ہیں یا مغرب کے پالے ہوئے۔ ہم نے اسلام کو سنسکرت بنا دیا ہے جس کو برہمن کی طرح صرف علما ہی پڑھ سکتے ہیں اور اس کی تشریح کر سکتے ہیں۔ پھر چونکہ ہم مولوی طبقے سے الرجک ہیں لہذا ہم خود بھی اسلام کے بارے میں کسی قسم کا علم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ہاں اس کے مختلف احکامات کو فرسودہ ضرور مانتے ہیں۔ اور تبدیل کرنے کو بے تاب ہیں صرف انہی مولویوں کا ڈر ہے کہ یہ نہیں کرنے دیتے۔

مغرب نے اسلام کے interpreters کو خود بنانا شروع کیا وہ بھی پچھلی صدی کی شروعات میں یا انیسویں صدی کے اختتام پر۔ اس کے لئے عالم فاضل لوگ تیار کر کے مسلمان ملکوں میں بھیجے گئے کہ وہاں جا کر مختلف احکامات کی ایسی تشریح کی جائے کہ لوگوں میں اختلافات پیدا ہوں اور آج دیکھ لیں سب کو ہر معاملے میں دوسرے فرقے سے اختلاف ہے۔ اور مزے کی بات مغربی ممالک دینی ویزے جاری کرتے پھرتے ہیں کہ مسلمان ملکوں سے مولوی بلا کر یہاں کی مسلمان آبادی کا تقاضا پورا کر کے نیک بنا جائے۔

میری عمر اس وقت 21 سال ہے اب سے 10 سال پہلے اسلام کے اکثر احکامات میرے نزدیک بے حد عجیب اور حیران کن تھے اور میرا خیال تھا کہ اللہ کو کیا پتا ہو گا ٹی وی کیا ہوتا ہے اور کمپیوٹر کیا ہے؟ مجھے اسلام کے احکامات brutal nature کے لگتے تھے۔ مگر میں نے کبھی اپنے خیالات کا اظہار کسی سے نہیں کیا۔ وجہ؟ کیا مجھے کسی کا ڈر تھا؟ نہیں میری بدتمیزی مشہور ہے۔ صرف اتنا کہ مجھے اتنی سمجھ تھی کہ اگر کوئی بات مجھے سمجھ نہیں آتی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بات غلط ہے۔ مجھے میرے ہر سوال کا جواب بہت جلد مل جاتا تھا حتٰی کہ اگر میں نے زمین سے اخبار کا ٹکرا بھی اٹھایا تو اکژ اوقات اس پر میرے سوال کا جواب پرنٹ تھا۔ آج جب میں کسی کو اسلام پر اعتراض کرتے دیکھتا ہوں تو حیرانی ہوتی ہے کہ کتنے ہی لوگوں کا ایمان خراب کر دیا جاتا ہے بجائے یہ کہ اس اعتراض کا جا کر جواب ڈھونڈنے میں۔ ایسے لوگوں پر افسوس ہوتا ہے جس بات کا رونا روتے ہیں خود اسی میں ملوث ہوتے ہیں۔

Posted in اردو | 5 Comments

ڈیموکریٹس عراق اور مسلمان

ری پبلیکن جارج ایلن نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے اور ڈیموکریٹک جم ویب کی فتح سے سینٹ بھی ڈیموکریٹس کے under آ گیا ہے۔ اگر جم ویب جیت جاتے تو بھی ڈیموکریٹس کو برتری حاصل رہتی مگر سینٹ ان کے under  نہیں ہوتا کیونکہ ڈک چینی کے ووٹ کی بدولت سینٹ معلق ہی رہتی۔

میں نے پہلے لکھا تھا کہ یہاں میڈیا کو عراق کی ویڈیوز اور تصاویر کی اجازت نہیں۔ لیکن اب متواتر خبریں میڈیا کا حصہ بن رہی ہیں۔ امریکہ میں ہر سال صرف road accidents میں مرنے والوں کی تعداد 45000 کے لگ بھگ ہوتی ہے تو پھر کیا 105 فوجیوں کے مرنے کا حکومت پر کوئی اثر ہوگا؟ نہیں حکومتیں ہر جگہ ایک جیسی ہی ہوتیں ہیں اور اگر کام کسی قوم کا ہو اور کر کوئ اور قوم رہی ہو تب تو بالکل احساس نہیں ہوتا۔

2004 کے صدارتی انتخابات سے پہلے بن لادن کی جعلی ویڈیو ٹیپ چلا کر کیسے شکست کو فتح میں بدلا گیا تھا تو اب ایسی کوئی ویڈیو کیوں نہیں نازل ہوئی؟ حالانکہ صدام حسین کو سزائے موت بھی سنا دی گئی ہے۔

کیا ڈیموکریٹس کی فتح مسلمانوں کو کوئی فائدہ دے گی؟ نہیں میرا نہیں خیال۔ سکرپٹ پر کامیابی سے عمل ہو رہا ہے۔ رمز فیلڈ جا چکے ہیں۔ ری پبلیکن پارٹی کو پس منظر کر کے اب ڈیموکریٹس کے ذریعے عراق سے فوج نکالنی ہے۔ عراق میں جو کرنا تھا کر لیا ہے۔ اب سکرپٹ کے مطابق عراق سے فوج نکالنی ہے کہ یہ کام ری پبلیکن پارٹی کر کے 6 سال کے کئے کرائے پر پانی نہیں پھیر سکتی۔

سنی شیعہ کے مسئلے نے مسلمانوں کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا کسی چیز نے نہیں۔ اتنے عرصہ پہلے ہونے والے واقعے نے جسمیں ہر کسی نے عقل کو حیران کر دینے والی غلطیاں کیں کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کو کافر کہا جاتا ہے اور آج بھی کئی عقلمند اور سمجھدار لوگ شیعوں کا نام سنتے ہی ان کو گالیوں سے نوازتے ہیں اور شیعہ حضرات بھی صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں۔

عراق میں جو جنگ امریکی فوج کے خلاف تھی اس کو شیعہ حضرات کے مقدس مقامات پر کامیابی سے حملے کروا کر سنیوں کے خلاف کر دیا گیا اور چونکہ شیعہ حضرات مسلمان ہیں اور مسلمانوں میں عقل نہیں ہوتی لہذا سنی شیعہ فساد نے عراق کی تقسیم کا منصوبہ کامیاب کروا دیا ہے۔ اس خانہ جنگی کے نتیجے میں سنی شیعہ زون بن گئے ہیں سنیوں نے سنی علاقے کی طرف ہجرت کی اور شیعوں نے شیعہ اکثریتی علاقے کی طرف۔ بالکل تقسیم ہند کا منظر ہے فرق یہ کہ دونوں طرف مسلمان ہی مسلمان کا گلا کاٹ رہے ہیں۔

تیل کرد علاقے میں ہے یا شیعہ علاقے میں کردوں کو ہمیشہ سے امریکی مدد حاصل رہی ہے اور شیعہ اس وقت عراقی حکومت کا حصہ ہیں۔ امریکہ کو جو کرنا تھا کر چکا ہے تیل ملتا رہے گا ہاں عراق کا اعلان باقی ہے اس کے بعد بھی شیعہ حضرات کسی نا کسی بہانے سے سنی علاقے پر قبضہ کرتے رہے گے اور آجکل جس طرح اسرائیل کے فلسطین پر قبضے یا حملے کی خبر آتی ہے اس سے توجہ ہٹانے کو یہی کافی ہوا کرے گا مسلمان سب کچھ بھول بھال کر ایک دوسرے کی خبر لینا شروع ہو جائیں گے۔ ہاں oh I c کی کانفرنس بھی منعقد ہوا کرے گی۔

ڈیموکریٹس کی فتح پر مسلمانوں کو خوش ہونے کی قطعاُ ضرورت نہیں تباہی کا ابھی آغاز ہوا ہے۔ ابھی اس کی وجہ سے کتنے ہی مسلمان ملکوں میں شعیہ سنی فساد پھوٹیں گے۔ میری تو یہی دعا ہے کہ مسلمانوں کو صبر اور تحمل سے کام لینا آ جائے۔ آمین۔
Posted in اردو | 2 Comments

امریکی الیکشن 2006

امریکہ دو جماعتی ملک ہے یعنی دو سیاسی جماعتوں میں رسہ کشی ہوتی رہتی ہے۔ میرا خیال تھا کہ جس طرح میڈیا میں دہشت گردی کا ہوا کھڑا کیا ہوا ہے لوگ ری پبلیکن پارٹی کو ہی ووٹ دیں گے۔ میرا یہ خیال صدام کو پھانسی دینے کی سزا کے اعلان کے ساتھ بدل گیا۔

امریکہ خود کو جمہوریت کا علمبردار کہلاتا ہے اور دو سو سال سے زائد عرصے کی جمہوریت پر اتراتا پھرتا ہے مگر اندر سے دیکھنے پر یہ جمہوریت انتہائی کھوکھلی ہے۔ میڈیا، انٹرنیشنل کمپنیوں پر کس کا قبضہ ہے یہ سب جانتے ہیں اور انہی کمپنیوں سے قرضہ لے کر اسی میڈیا کے مرہون منت سیاست دان کس قوم کے زیر اثر ہیں یہ بھی سب جانتے ہیں۔

عام طور پر ری پبلیکن پارٹی امیروں کی پارٹی سمجھی جاتی ہے اور ڈیموکریٹس غریبوں کی۔ وہ اس لئے کہ ڈیمو کریٹس عام طور پر امیروں پر اور کمپنیوں پر ٹیکس لگاتے ہیں اور وہ تیل اور گیس کمپنیوں کو من مانی کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ جبکہ ری پبلیکن پارٹی امیروں کی طرف دھیان زیادہ دیتی ہے اور ان کے مفاد کا زیادہ خیال کرتی ہے۔

ٹرن آؤٹ کا رونا ہر انتخابات پر رویا جاتا ہے۔ خود یہاں ٹرن آؤٹ تیس جالیس فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا۔ کچھ آتے نہیں اور کچھ کو آنے دیا جاتا نہیں۔ کسیے؟ وہ ایسے کہ ری پبلیکن پارٹی کو پتہ پے کہ جتنے بھی غریب ہیں ان کی پچاس سے نوے فیصد آبادی افریقن امریکن پر مشتمل ہے۔ جو کہ ری پبلیکن پارٹی سے رنگ اور نسل کی بنا پر روا رکھے جانے والے تعصب کی وجہ سے نفرت کرتی ہے لہذا وہ ان کے خلاف ووٹ دیں گے۔ اور چونکہ وہ جرائم میں بے حد ملوث ہوتے ہیں لہذا ان کے لئے قانون بنایا ہوا ہے کہ اگر کوئی کسی جرم میں ملوث ہے تو وہ ووٹ دینے کا حقدار نہیں۔ اب اس میں نچلے طبقے کا ہر فرد آ گیا چاہے گورا ہو یا کالا کیونکہ وہ غریپ ہے اور اس کو پتہ ہے کہ ڈیموکریٹس ہی ان کے لئے کچھ کرتے ہیں لہذا ان کو روکنے کے لئے یہ قانون ہے اور دوبارہ ووٹ کے لئے فیس ہے اب چونکہ غریپ ہے تو وہ اپنی فکر کرے یا ووٹ کی؟

دوسرا اگر موسم خراب ہے تو پچانوے فیصد افریقن امریکن گھر بیٹھے گیں کہ چلو ٹی وی دیکھیں ووٹ ڈال کر کیا کرنا بعد میں رونے روتے ہیں کہ یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا۔ ہمارا ڈیموکریٹ ہار گیا۔ اس کے برعکس ری پبلیکن کو ووٹ دینے والا چونکہ well mannered لہذا چاہے بارش ہو یا برف باری وہ ہر صورت جا کر ووٹ ڈالے گا۔

اب یہاں ورجینیا میں سارا دن بارش ہوتی رہی اور ایک منٹ کے لئے بھی نہیں رکی۔ صبح چار پانچ بجے شروع ہوئی اور الیکشن والے دن سے اگلے دن رات تک ہوتی رہی۔ اس کا نتجہ ری پبلیکن کے حق میں نکلا۔ افریقن امریکن گھروں میں بیٹھے رہے۔ میں نے جس سے بھی پوچھا اس نے یہی کہا نہیں میں گھر پر ہی رہا۔ مگر جتنے بھی ری پبلیکن تھے وہ سب کے سب جا کر ووٹ ڈالتے رہے۔ (امریکہ میں الیکشن پر چھٹی نہیں ہوتی پولنگ سٹیشن رات آٹھ نو بجے تک کھلے رہتے ہیں آپ دفتر سے لنچ بریک میں یا واپسی پر جا کر ووٹ ڈال آئیں سپیشل چھٹی کی ضرورت نہیں۔)

تیسرے جو یہاں پر ووٹنگ کے لئے مشینیں ہے ان پر بھی ڈیموکریٹس کو شبہ ہے کہ چونکہ افریقن امریکن کم پڑھے لکھے ہیں دوسرے ان کا دماغ زیادہ وقت غیر حاضر رہتے ہے لہذا وہ اس مشین کے طریقے کار کو صیح طور پر سمجھ نہیں سکتے اور نتیجتاُ ان کا ووٹ ضائع ہو جاتا ہے۔

میں نے ساری شام سی این این کی ویب سائیٹ اوپن کئے رکھی۔ بار بار اس کے پیج کو ریفریش کرتا رہا۔ سوائے ایک دو دفعہ کے ری پبلیکن پارٹی کے جارج ایلن ہی کو برتری حاصل رہی۔ اور کئ موقعوں پر ان کو ڈیموکریٹک امیدوار جم ویب پر بتیس ہزار ووٹوں کی برتری حاصل تھی۔ پھر میں جا کر سو گیا۔ رات گئے کہیں "پرنس ولیمز" کاؤنٹی سے آنے والے ووٹوں کے نتائج نے فیصلہ ڈیمو کریٹک جم ویپ کے حق میں کر دیا۔ اب جم ویب کہتے ہیں میں جیتا اور جارج ایلن کہتے ہیں میں دوبارہ گنتی کرواؤں گا۔ خیر اگر سارے افریقن امریکن جا کرے ووٹ ڈال آتے تو شائد دوبارہ گنتی کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

اگر دوبارہ گنتی کے بعد بھی ڈیمو کریٹ کی جیت ہوتی ہے تو یہ بڑی کامیابی ہے کہ ورجینیا ہمیشہ سے ری پبلیکن سٹیٹ رہی ہے۔ ابھی بھی سوائے چند علاقوں کے سارا ورجینیا ری پبلیکن ہے۔

ڈیموکریٹس کی جیت کے باوجود مسلمانوں کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے اس کے احکامات کہیں اور سے نازل ہوتے ہیں۔ ہاں دوسرے ایشوز پر ان کے جو اختلافات ہیں وہ یہ لوگ ضرور حل کریں گے۔ شائد انڈیا سے ہونے والی نیوکلئر ڈیل پر بھی نئے سرے سے غور شروع ہو۔ عراق کے بارے میں جو پالیسی تبدیلی کی بات کی جا رہی ہے اور رمز فیلڈ کے استعفٰی کے بعد اب امریکہ عراق سے جانے لگا ہے۔ اس کو بھی افغانستان کی طرز پر نیٹو کے حوالے کیا جا سکتا ہے اور صدر مشرف کے پاس کافی فوج ہے وہ شائد تیار بھی ہوں عراق فوج بھیجنے کے لئے۔
Posted in اردو | Leave a comment

امریکہ پاکستان اور الیکشن

صبح یہاں مڈ ٹرم الیکشن ہے۔ پچھلے دو ماہ سے جو الیکشن الیکشن مچی ہوئی تھی وہ صبح ختم ہو جائے گی۔ مگر اس نے مجھے ایک اچھا experience ضرور دیا ہے۔ جو انتہائی حیران کن تھا۔

سب سے پہلے تو پاکستان کے الیکشن کا حال سنیں۔ باقی جگہ بھی ایسا ہی ہوتا ہو گا مگر لاہور میں کچھ یوں ہوا کرتا تھا کہ کونسلر یا علاقے کے جو بھی "سرکاری بدمعاش" ہوتے تھے ان کے اصطبل میرا مطلب ہے ڈیرے پر یا گھر کے باہر چارپائیاں بچھی ہوئیں ہیں اور کرسیاں پڑی ہیں۔ لوگ آ جا رہے ہیں۔ کونسلر صاحب چار سال میں اپنا اتنا دیدار نہیں کراتے جتنا ان چار دنوں میں کرا دیتے ہیں۔ چائے بار بار آ رہی ہے۔ کونے میں دیگیں صبح شام پک رہی ہیں۔

اب یہاں کا حال سنیں کہ سٹی کونسل کے ممبر سے ملنا ہے تو سٹی کونسل میں ان کے دفتر میں ملیں یا پھر ان کے گھر کے ڈرائنگ روم میں اگر وہ اجازت دیں اور گورنر، سینیٹر سے صرف ان کے دفتر میں۔

الیکشن کے بعد سے لے کر اگلے الیکشن تک آپکو کونسلر صاحب ملیں گے نہیں اور اگر ملیں گے بھی تو  بے حد مشکل سے۔ الیکشن سے پہلے کونسلر صاحب علاقے کے غریبوں کی طرف توجہ دیں گے اور اس توجہ کے دوران ان کے گرگے ان کے بچوں کو توجہ دیں گے اور شام کو کھانے کی دعوت دیں گے۔ چونکہ یہ بچے ہیں لہذا اگر کچھ بچا کھچا ہے تو کھلا دیا جائے گا نہیں تو فوراُ مطلب کی بات کی جاتی ہے۔ اور وہ ہے علاقے میں کونسلر صاحب اور ان کے گماشتوں میرا مطلب ہے حواریوں کی قابل اعتراض تصاویر والے پوسٹرز لگانے کی۔( قابل اعتراض اس لئے کہ کونسلر صاحب کو گنجے ہوئے عرصہ بیت گیا اور وہ اور ان کے چمچے ابھی تک اپنی جوانی والی تصاویر پوسٹرز پر لگا دیتے ہیں۔)

اس سلسلے میں ان کو صرف پوسٹرز اور ان کی اجرت دی جاتی ہے ساتھ میں انتباہ کیا جاتا ہے کہ اگر علاقے میں پوسٹرز نظر نہ آئے تو تمہاری خیر نہیں جاؤ صبح اور پیسے ملیں گے۔ اب یہ بچے جا کر ایک ریڑھی کا بندوبست کرتے ہیں ساتھ میں ایک بانس کا جس سے علاقے کے گھروں کی خوبصورتی کو کونسلر صاحب کی تصاویر سے چار چاند لگائے جا سکیں۔

اب ان بچوں کو پتہ ہے کہ علاقے کی معصوم عوام نے کونسلر کو تو کچھ کہنا نہیں ان کو گالیوں سے نوازنا ہے لہذا کم بخت رات 12 بجے سے اپنی مہم کا آغاز کرتے ہیں کہ اس وقت ان کو روکنے شاذونادر ہی کوئی آئے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ ایک بچہ ریڑھی دھکیلتا جا رہا ہے اور باقی پوسٹرز پر لئی لگا لگا کر ان سے لوگوں کی دیواروں کا ستیا ناس کر رہے ہیں۔ کچھ معصوم بچے تو پوسٹرز کے پیچھے لئی لگانے کے بجائے کونسلر صاحب کے رخ روشن پر لئی لگا دیتے ہیں جس کو سیانے قسم کے بچے ان سے چھین کر زمیں پر پھینک دیتے ہیں کہ اگلے روز کسی صبح خیز کے پاؤں سے لپٹ کر کونسلر صاحب کی محبت کا ثبوت دے۔

اب الیکشن کے نزدیک کونسلر صاحب لوگوں کے ڈھیر میں گلیوں میں پھرتے ہیں اپنی مسکراہٹیں اچھالتے پھرتے ہیں۔ ساتھ میں ان کے حواری، گن مین، علاقے کے چاپلوس قسم کے لوگ اور سب سے آخر میں بچے جو فلاں بن فلاں آوے ہی آوے یا فلاں زندہ باد قسم کے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس یہاں سب سے پہلے اہم سڑکوں اور ایونیو کی شروعات میں لکڑی کے دو ڈنڈوں پر کونسل کے ممبران کے پلے کارڈ لگ جاتے ہیں کہ ان صاحب کو ووٹ دیں۔ (ان پر ان کی کوئی تصویر نہیں ہوتی) اس کے بعد سب امید وار آپکے گھر باری باری ہفتہ یا اتوار کو آتے ہیں کہ اس دن امریکہ گھر پر ہوتے ہیں۔ آپ نے دروازہ کھولا اور انہوں نے اپنا تعارف کرایا آپ حیران کہ یہ 11 بجے یا دوپہر 3 بجے کیوں آ گئے ان کے سپورٹرز کہاں ہیں اور رات بھی نہیں اوپر سے بچے کہاں گئے اور شور تو سوائے گاڑیوں کے اور کسی قسم کا نہیں۔ اس دوران وہ پتہ نہیں کیا کیا بتا چکتے ہیں کہ ٹیکس کے سلسلے میں انہوں نے کیا کیا اور علاقے میں ترقی اور ہائی وے سے جوڑنے میں کیا کیا اور آگے کیا کرنے والے ہیں۔ اب آخر میں وہ کہتے ہیں کہ ایک 10×12 کا کارڈ وہ آپکے فرنٹ لان میں لگانا چاہتے ہیں کہ elect wood   یا elect john تو لگا لیں کہ نہیں آپ کہتے ہیں ہاں بڑے شوق سے اور پھر آپ ان کی توجہ اس بڑے بورڈ پر لگاتے ہیں جو ڈرائیو کے پہلے گھر ہونے کے جرم میں آپکے باغیچے میں لگایا گیا ہے تو یہ صاحب فوراُ پوچھتے ہیں کہ لگانے سے پہلے لگانے والوں نے اجازت لی تھی یا نہیں اور اگر نہیں تو کیا آپ اس کو فوراُ اتروانا چاہتے ہیں؟ وہ کبھی نہیں کہیں گے کہ آپ اس وقت کام پر تھے تو وہ بیل بجا بجا کر چلے گئے اور لگا دیا۔

اب یہ جانے سے پہلے آپکو اپنا تعارفی فلائیر دیں گے اور اگلے گھر کی طرف چل پڑیں گے اس دوران یہ اپنی بیوی کو اشارہ کر دیں گے جو فوراُ ُ آپکی ڈرائیو وے میں گاڑی روک کر اترے گی بچھلے حصے سے 10×12 والا کارڈ اتار کر آپکے فرنٹ لان میں لگا دے گی۔ کہاں کے بچے اور کیسے حواری؟ ان لوگوں کو ایسا ویسا کچھ پتہ نہیں۔

یہاں جو بات سب سے زیادہ پسند آئی وہ تھی بجائے آگے ہی آگے کا سنانے کی کہ یہ کروں گا وہ کروں گا سب سے پہلے یہ بتایا جاتا ہے کہ کیا کیا ہے اب تک؟ اور اگر کچھ نہیں ہو سکا یا جس کا وعدہ کیا تھا وہ نہیں ہوا تو اس کی وجہ کیا تھی؟ یہ نہیں کہ یہ سادگی تھی اور یہ لوگ الیکشن کہ لئے چندہ نہیں جمع کرتے کرتے ہیں اور ریکارڈ جمع کرتے ہیں مگر لوگوں کو تکلیف دیے بغیر۔ امید ہے پاکستان میں بھی جلد ہی ایسا دیکھنے کو ملے گا۔

Posted in Uncategorized | 1 Comment